واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے مبینہ حملہ آور کو ذہنی طور پر بیمار قرار دے دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملہ آور کو روک لیا اور وہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر کے بال روم کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔ ان کے مطابق تقریب کے مقام کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ایک مشکل عمل تھا، تاہم سیکیورٹی اداروں نے صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مبینہ حملہ آور کے اندر کافی عرصے سے شدید نفرت موجود تھی اور اس کے اہلِ خانہ بھی اس کی ذہنی حالت سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہران بات چیت چاہتا ہے تو رابطہ کیا جا سکتا ہے اور معاملات سفارتی ذرائع سے حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً افزودہ یورینیم، مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق کچھ فریقین بات چیت کے لیے تیار ہیں جبکہ کچھ نہیں، تاہم امید ہے کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے میں مکمل ساتھ نہیں دیا، جبکہ بعد میں برطانیہ کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بہتر ہم آہنگی ضروری ہے۔
چین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر مایوس نہیں، لیکن مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ شاہ چارلس سوم کے امریکا کے ممکنہ دورے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی اور عالمی سیاسی صورتحال پر بحث جاری ہے۔