رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں گھروں اور کاروباری مقامات سے مختلف اشیاء کی بڑے پیمانے پر چوری کی جا رہی ہے جن میں ٹی وی، قالین، موٹر سائیکلیں، صوفے، پینٹنگز اور دیگر گھریلو سامان شامل ہے۔
رپورٹ میں فوجیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ لوٹ مار اب ایک معمول بنتی جا رہی ہے اور کمانڈرز اس صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہے۔ بعض فوجیوں کے مطابق لبنان سے واپسی کے دوران چوری شدہ سامان کھلے عام ٹرکوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ چیک پوسٹس ہٹا دیے جانے کے بعد اس عمل میں مزید آسانی پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس واقعے پر ایران کے سفارت خانے نے بھی ردعمل دیتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کو ایک گھر سے ٹی وی اور قالین لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سفارت خانے نے اس پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے 1948 میں فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا، ان کی نسلیں اب لبنان میں بھی اسی طرح کے اقدامات کر رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ان الزامات کے بعد فوجی پولیس کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ واقعات اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، اور لبنانی شہریوں کی املاک کی مبینہ لوٹ مار کو بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔