اسرائیلی حملے،صمود فلوٹیلا کی دنیا بھر میں احتجاج کی اپیل
غزہ کے محصور عوام تک امداد پہنچانے کے لیے نکلا گلوبل صمود فلوٹیلا اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کی اپیل کر رہا ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے قافلے پر حملہ کیا اور غزہ میں امداد پہنچنے سے روکا۔
فلوٹیلا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ہر انسان دوست کارکن کے ساتھ کھڑے ہیں جو قافلے میں شامل ہے، اور ان کا حوصلہ اسرائیل کے مہلک محاصرے کے خاتمے کی مشترکہ جدوجہد کا حصہ ہے۔ منتظمین نے اعلان کیا کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں گے جب تک غزہ آزاد نہ ہو جائے۔
گذشتہ رات اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو غزہ سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور روکا۔ اس دوران اسرائیلی کمانڈوز نے اچانک چار جہاز قبضے میں لے لیے اور ان پر سوار کارکنان کو حراست میں لے کر اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا۔ گرفتار ہونے والوں میں عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک ویڈیو جاری کر کے دعویٰ کیا ہے کہ تمام کارکن محفوظ ہیں، تاہم فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انسانی ہمدردی کی عالمی مہم کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
فلوٹیلا کے قافلے میں 44 جہاز شامل ہیں، جن پر 46 ممالک کے 500 سے زائد کارکنان سوار ہیں۔ پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی ایک جہاز پر موجود ہیں، جس نے اس معاملے کو پاکستان میں نمایاں توجہ دلائی ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوں اور اپنے ممالک کی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کی پشت پناہی بند ہو، تعلقات توڑے جائیں اور پابندیاں عائد کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا: "بہادر دل آگے بڑھیں، فلسطین کو آزادی ملنی چاہیے۔”
صمود فلوٹیلا کی اپیل کے بعد کئی ممالک میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔