ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨277.91 🇪🇺 یورو ₨317.41 🇬🇧 پاؤنڈ ₨370.20 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.11 🇦🇪 درہم ₨75.67 🇨🇳 چینی یوان ₨41.03

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

👁️ 5 مرتبہ پڑھا گیا
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا-مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے متعلق تازہ فوجی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مئی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی منڈی میں برینٹ کروڈ، جسے خام تیل کا عالمی معیار سمجھا جاتا ہے، جمعرات کو 6 فیصد سے زائد مہنگا ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی، فوجی کارروائیوں میں تیزی اور خطے میں توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ بحیرہ احمر تیل کی عالمی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جبکہ سعودی عرب بھی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے اسی روٹ کو استعمال کرتا ہے۔ اس لیے ان حملوں نے عالمی منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی تھی، تاہم جنگ بندی برقرار نہ رہنے اور سفارتی کوششوں میں تعطل کے باعث مارکیٹ میں بے یقینی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ ایران کی قیادت کسی نئے معاہدے پر آمادہ نظر نہیں آتی، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات مزید بڑھ گئے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ قدرتی گیس بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ برطانیہ میں بینچ مارک گیس کی قیمت تقریباً 150 پینس فی تھرم تک پہنچ چکی ہے، جو جون کے آخر میں تقریباً 98 پینس فی تھرم تھی۔

ماہرین کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے کا سب سے بڑا اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑتا ہے، تاہم اس کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے خوراک، صنعتی مصنوعات اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں جولائی کے آغاز سے اب تک پیٹرول تقریباً 5 پینس فی لیٹر مہنگا ہو کر اوسطاً 1.56 پاؤنڈ فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 1.72 پاؤنڈ فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح امریکہ میں بھی پٹرول کی اوسط قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جو ایک ماہ قبل تقریباً 3.92 ڈالر فی گیلن تھی۔

سرمایہ کاری ادارے Quilter Cheviot کے ماہر جوناتھن ریمنڈ کے مطابق اگر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو مہنگی اشیا اور خدمات کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے لیے بھی ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ کے مرکزی بینک نے گزشتہ چار اجلاسوں میں شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھی ہے، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے بھی حالیہ اجلاس میں شرح سود 3.5 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہیں تو نہ صرف عالمی معیشت بلکہ پاکستان سمیت درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے کرایوں، بجلی کی پیداواری لاگت اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔