تہران: ایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے جنوبی علاقوں اور اہم انفرااسٹرکچر پر امریکی حملے جاری رہے تو ایران دفاعی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گا جن سے مخالف قوتوں کے لیے کارروائیاں جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر محمد اکرمینیا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد موجودہ کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایرانی افواج کی جانب سے جوابی اقدامات جاری ہیں، اور یہ سلسلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایران کے بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کیا جاتا۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے مزید کہا کہ ایران اپنی سرحدوں، قومی مفادات اور دفاعی صلاحیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر نئی حکمتِ عملی بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔
