امریکا نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت کو مرحلہ وار غیر مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے تعاون اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آئی سی سی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے کام کرے گا۔
ان کے مطابق امریکا ایسے اداروں یا تنظیموں کو امریکی آئینی اور عدالتی نظام پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور غزہ میں انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے سلسلے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
امریکا طویل عرصے سے آئی سی سی کے بعض فیصلوں اور اختیارات پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے،
جبکہ عدالت کا مؤقف ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم کی آزادانہ تحقیقات اور کارروائی کی ذمہ دار ہے۔