امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر ایک بار پھر فضائی حملے کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ بندر عباس، چابہار، کنارک اور آبنائے ہرمز کے اطراف متعدد علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک بار پھر ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں اضافی فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بندر عباس، سرک، کنارک اور چابہار سمیت آبنائے ہرمز کے قریب واقع مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ان علاقوں میں سیکیورٹی اور ہنگامی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے موجود خطرات کو کم کرنا اور سمندری راستوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ ادارے نقصانات کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے فوری طور پر بعض حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید بڑھا دیے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی امریکا نے ایران کے جنوبی علاقوں میں حملے کیے تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں مسلح افواج کے آٹھ اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کا تعلق ایران کی فضائی اور بحری افواج سے تھا، جن میں سے بعض بندر عباس جبکہ دیگر بوشہر میں تعینات تھے۔
خطے میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ فریقین کی جانب سے آئندہ اقدامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔