مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات نے کہا ہے کہ کالعدم کمیٹی کے حالیہ احتجاج اور سرگرمیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور راستے بند کرنے جیسے واقعات پیش آئے، جن کی حکومت مذمت کرتی ہے۔
مظفرآباد میں ڈی آئی جی پولیس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ مئی میں ہونے والے احتجاج کے دوران بعض عناصر نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، سڑکیں بند کیں اور عوام کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جائز مطالبات پر بات چیت کی کوشش کی، تاہم قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام پرامن ہیں اور ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا پرتشدد احتجاج کا حصہ نہ بنیں۔
اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس نے کہا کہ بعض علاقوں میں احتجاج کے دوران شہریوں اور سرکاری ملازمین کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ بند سڑکوں کو مرحلہ وار کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض دعوؤں کے برعکس، 4 جولائی کو کسی بڑے آپریشن کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کی سہولت کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔