تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہای کی آخری رسومات کے سلسلے میں تہران کے آزادی اسکوائر پر انگوٹھی پہنے ہاتھ کا ایک دیوقامت مجسمہ نصب کیا گیا، جسے مزاحمت، قومی استقامت اور اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مجسمہ صرف چار روز میں تیار کیا گیا اور گرینڈ مصلیٰ سے آزادی اسکوائر تک جاری جنازے کے جلوس کے دوران عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔
رپورٹس کے مطابق تہران میں لاکھوں افراد نے جنازے کے جلوس میں شرکت کی۔ شرکاء ایرانی پرچم اور آیت اللّٰہ خامنہای کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ مختلف مقامات پر ان کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔
جنازے سے قبل آیت اللّٰہ خامنہای کے تابوت کو ملکی و غیر ملکی شخصیات کے لیے رکھا گیا، جس کے بعد اسے عوامی دیدار کے لیے خصوصی شیشے کے حصار میں منتقل کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے اہلِ خانہ کے تابوت بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات کئی مراحل میں مکمل کی جائیں گی۔ تہران کے بعد میت کو قم منتقل کیا جائے گا، جہاں مذہبی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس کے بعد عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں رسومات ادا کی جائیں گی، جبکہ بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران لا کر مشہد میں بھی جنازے کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں جاری آخری رسومات میں مختلف ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے اور لاکھوں افراد ان تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں۔