اشتہار کے لیے جگہ (728x90)

وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کردیا

وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کردیا

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کوشش کرے گی کہ اس کا زیادہ بوجھ عوام پر نہ پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سمیت پورا خطہ اس وقت جنگی صورتحال کی زد میں ہے اور ایران سمیت کئی ممالک کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے، اسی لیے موجودہ عالمی حالات میں حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سادگی اختیار کرنے کے لیے متعدد فیصلے کیے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کے لیے مختص تیل میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے جبکہ تمام سرکاری دفاتر کی 60 فیصد گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی وزرا، مشیر اور معاونین خصوصی آئندہ دو ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کمی کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی بھی کی جائے گی۔

وزیراعظم کے مطابق جون 2026 تک نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری محکموں میں گاڑیاں، فرنیچر، ائیر کنڈیشنرز اور دیگر سامان کی خریداری بھی روک دی گئی ہے۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران سمیت تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے دو دن کی کٹوتی کی جائے گی تاکہ حاصل ہونے والی رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جا سکے۔

حکومت نے غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزرا اور مشیر صرف انتہائی ضروری اور ملکی مفاد کے دورے ہی کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جبکہ سرکاری سیمینارز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کیے جائیں گے۔

تیل کی بچت کے لیے حکومت نے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کے تحت سرکاری دفاتر اب ہفتے میں چار دن کھلیں گے۔ اسی سلسلے میں تمام اسکولوں کو بھی رواں ہفتے کے اختتام سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایمبولینس سروس اور عوامی ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال ہونے والی بسیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔