بریکنگ نیوز

27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

نومبر 12, 2025 admin
27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور

 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور- قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کی تمام 59 شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیں، جس کے بعد بل کو حتمی منظوری دے دی گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل پیش کیا۔ ووٹنگ کا عمل ڈویژن کے ذریعے ہوا، جس میں حق اور مخالفت میں ووٹ دینے والے اراکین کو علیحدہ لابیوں میں جانے کی ہدایت کی گئی۔

حکومت کی جانب سے ترمیم میں 8 نئی ترامیم شامل کی گئیں — چار شقیں نکالی گئیں اور چار نئی شامل کی گئیں۔
اہم ترامیم کے مطابق:

  • آرٹیکل 6 (شق 2) میں “وفاقی آئینی عدالت” کا اضافہ کیا گیا۔
  • آرٹیکل 10 میں “سپریم کورٹ” کا لفظ شامل کیا گیا۔
  • آرٹیکل 176 کے تحت موجودہ چیف جسٹس اپنی مدت مکمل ہونے تک “چیف جسٹس پاکستان” کہلائیں گے۔
  • آرٹیکل 255 (شق 2) میں ترمیم کی گئی کہ آئندہ چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے سینئر ترین جج ہوں گے۔

اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دیا جبکہ جے یو آئی (ف) نے بل کی مخالفت کی۔ بعد ازاں اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ وہیل چیئر پر اجلاس میں شریک ہوئے، جس کے بعد حکومت کے اراکین کی تعداد بڑھ کر 234 ہوگئی، جب کہ ترمیم کے لیے 224 ووٹ درکار تھے۔

وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ “چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس پاکستان کہا جائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “یحییٰ آفریدی ہی بدستور چیف جسٹس پاکستان رہیں گے، اور ہم نے ترمیم کے خدوخال واضح کر دیے ہیں۔”

اپوزیشن کی جانب سے محمود خان اچکزئی نے بل کی کاپی پھاڑ دی، تاہم ایوان میں حکومتی اکثریت برقرار رہی اور ترمیم منظور کرلی گئی۔