ایران:جنگ میں تباہ ہونے والا اسکول یادگار بنا دیا گیا

ایران:جنگ میں تباہ ہونے والا اسکول یادگار بنا دیا گیا-یہ عمارت دوبارہ تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال نہیں ہوگی

ایران:جنگ میں تباہ ہونے والا اسکول یادگار بنا دیا گیا-ایران میں حالیہ جنگ کے دوران نشانہ بننے والے میناب کے ایک اسکول کو مستقل یادگار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ عمارت دوبارہ تعلیمی ادارے کے طور پر استعمال نہیں ہوگی بلکہ اسے جنگ کی یادگار اور عجائب گھر کی شکل دی جائے گی۔

میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کی عمارت پر اب بھی ماضی کی یادیں نمایاں ہیں۔ اسکول کے نیلے دروازے پر ایران کا نقشہ، بڑی پنسلوں کے خاکے اور سائنس و ادب کی معروف شخصیات کی تصاویر موجود ہیں، تاہم عمارت کے اندر اب طلبہ کے بجائے ان کی یادیں دکھائی دیتی ہیں۔

اسکول کی عمارت کے مختلف حصوں میں طلبہ کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں، جن میں وہ تعلیمی سرگرمیوں، خوشی کی تقریبات اور روزمرہ زندگی کے مختلف لمحات میں نظر آتے ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ متاثرہ طلبہ کی یاد میں نصب سیاہ بینرز سانحے کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی حملوں کے دوران شجرۂ طیبہ اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 160 طلبہ جان سے چلے گئے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس حملے کی براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی گئی اور پینٹاگون کی جانب سے بھی حملے سے متعلق مکمل نتائج جاری نہیں کیے گئے۔ تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکول کو کم از کم ایک امریکی میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسکول کی دو منزلہ عمارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کلاس رومز میں موجود میزیں، تعلیمی سامان اور دیگر اشیا تباہ شدہ حالت میں موجود ہیں، جبکہ کئی حصوں کی چھتیں بھی منہدم ہوچکی ہیں۔

مقامی حکام اور شہریوں کی جانب سے طویل عرصے سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ تباہ شدہ عمارت کو محفوظ رکھا جائے تاکہ یہ واقعہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی ریکارڈ کے طور پر موجود رہے۔

ہرمزگان کے گورنر محمد اشوری تازیانی کے مطابق اسکول کی عمارت کو جنگی عجائب گھر اور یادگار میں تبدیل کیا جائے گا۔

دوسری جانب میناب کے قبرستان میں بھی سانحے میں جان سے جانے والوں کے لیے ایک مخصوص حصہ مختص کیا گیا ہے، جہاں اہل خانہ اپنے پیاروں کی قبروں پر آتے اور انہیں یاد کرتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق واقعے کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود تین افراد کی لاشیں تاحال نہیں مل سکیں۔

میناب کا یہ تباہ شدہ اسکول اب صرف ایک تعلیمی عمارت نہیں رہا بلکہ جنگ کے دوران پیش آنے والے المناک واقعے اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ کی ایک مستقل علامت بن گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

😠
سخت نا پسند
0 Votes
😑
بہتر ہو سکتی تھی
0 Votes
😉
ٹھیک ہے
0 Votes
🙂
اچھی ہے
0 Votes
👍
بہت اچھی ہے
0 Votes