ایران سے متعلق آئندہ دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے،ڈونلڈ ٹرمپ-ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے بارے میں اہم فیصلہ کرے گا کہ تہران کے خلاف مزید کارروائی کی جائے یا کسی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے زیرِ غور تجاویز سے قطع نظر امریکہ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران واشنگٹن کی منظوری کے بغیر کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران امریکہ نے ایران سے متعلق اپنے اہم مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور جلد واضح ہو جائے گا کہ واشنگٹن آئندہ کیا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ علی باقری کنی نے کہا ہے کہ تہران محض تحریری وعدوں پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی نئی سفارتی پیش رفت سے پہلے امریکہ کے عملی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں نئی جارحیت یا فوجی کارروائی کی صورت میں آبنائے ہرمز خودبخود نہیں کھلے گی۔ ان کے مطابق اس اہم بحری راستے کو مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ ایران کی مقرر کردہ شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران پر حملے کی صورت میں تہران دنیا کے کسی بھی حصے میں امریکہ کے مادی اور غیر مادی مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ادھر ایران کے سپریم لیڈر نے بھی فوجی قیادت سے ملاقات کے دوران کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دینے کی ہدایت پر زور دیا۔





