امریکا اور ایران میں بڑا بریک تھرو،فوجی حملے روکنے پر اتفاق-امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کے آثار سامنے آئے ہیں، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر پیش رفت کے لیے کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال عسکری کارروائیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی سطح پر رابطے جاری رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق بعض شقوں کی مختلف تشریح کے باعث حالیہ دنوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ برقرار رکھنے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دوحا مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی شریک ہوں گے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بہتر ہم آہنگی کے لیے براہ راست رابطے (ہاٹ لائن) کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، تاہم یہ نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔