امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک اپنے طے شدہ مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔
فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر امریکا اس مرحلے پر پیچھے ہٹ گیا تو یہ مسئلہ مستقبل میں دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے، اس لیے حکمت عملی کے تحت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد صرف فوری صورتحال پر قابو پانا نہیں بلکہ طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو خطے سمیت اسرائیل اور یورپ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا ہے اور اعلیٰ قیادت بھی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مکمل کارروائی سے پہلے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وہاں بڑی تعداد میں تیل بردار جہاز موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ راستہ مکمل طور پر فعال ہو جائے تو عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا جلد بازی میں تنازع ختم نہیں کرے گا تاکہ مستقبل میں کسی نئے بحران سے بچا جا سکے۔