افغان طالبان رجیم کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چار بچے اور ایک خاتون شدید زخمی ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی جانب سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ مقامی رہائشیوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھروں پر گرا، جس سے شدید نقصان ہوا۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال وانا منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، تاہم پاک فوج کی جانب سے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی گئی، جس میں سرحد پار موجود افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاک فوج صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی علاقے میں کشیدگی کے باوجود آپریشن “غضب الحق” مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بھی اسی علاقے میں افغانستان کی جانب سے فائرنگ کے واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔