پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی فوجی کارروائی کو “آپریشن غضب للحق” کا نام دیا گیا ہے۔ اس نام کے معنی اور پس منظر کے حوالے سے عوامی سطح پر دلچسپی پائی جا رہی ہے۔
“غضب للحق” تین الفاظ پر مشتمل ہے۔ “غضب” کا مطلب غصہ یا سخت ردعمل، “لل” کا مطلب کے لیے یا کی خاطر، جبکہ “حق” کا مطلب سچائی یا انصاف ہے۔ اس طرح اس اصطلاح کا مفہوم بنتا ہے: حق یا سچائی کے دفاع میں دیا جانے والا ردعمل۔ اس نام سے ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ مؤقف کے مطابق دفاعی اقدام ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں کیے جانے والے کئی فوجی آپریشنز کے نام عربی یا مذہبی پس منظر رکھتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 2014 میں شمالی وزیرستان میں شروع کیا گیا “ضربِ عضب” عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی تھی۔ “ضرب” کا مطلب وار جبکہ “عضب” سے مراد تلوار ہے، یوں اس نام کو علامتی اہمیت دی گئی۔
اسی طرح 2017 میں ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف شروع کیے گئے اقدامات کو “رد الفساد” کا نام دیا گیا، جس کا مطلب فساد یا دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
2019 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی فضائی حملوں کے جواب میں “سوئفٹ ریٹارٹ” کے نام سے کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس نام کا مطلب فوری جواب یا تیز ردعمل ہے، اور یہ ان چند آپریشنز میں شامل تھا جن کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔
گزشتہ برس بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں “بنیان مرصوص” کا نام بھی سامنے آیا، جو قرآنی اصطلاح ہے اور اس کا مطلب سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، یعنی مضبوط اور متحد صف۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان کی جانب سے بعض اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی گئی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدامات سرحد پار سے ہونے والی مبینہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ دوسری جانب افغان حکام کی جانب سے بھی مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی آپریشنز کے ناموں کا انتخاب محض عسکری حکمت عملی کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی علامتی اور نظریاتی اہمیت بھی ہوتی ہے، جس کے ذریعے کسی بھی کارروائی کو ایک مخصوص بیانیہ اور اخلاقی پس منظر دیا جاتا ہے۔