میرے ماموں مرحوم نور محمد صاحب میری والدہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کے گلے میں کچھ نقص تھا اور ان کی بات آسانی سے سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ بہت شرمیلی طبیعت کے مالک تھے۔ ہرخاوند کی طرح وہ بھی اپنی اہلیہ محبوب بیگم یعنی ”بوبو”سے بہت محبت کرتے تھے۔ آج کل کے زمانے کی طرح اس وقت چاکلیٹ، ٹافیاں اور مٹھائیاں وغیرہ کھانے کو نہیں ملتی تھیں۔ اگر کوئی میٹھی چیز ریوڑی یا گڑ وغیرہ بھی مل جاتا تو اسے بہت بڑی عیاشی سمجھا جاتا تھا۔ ایک دفعہ میری والدہ کارنس پر رکھے ہوئے برتنوں کو دیکھ رہی تھیں تو انہیں بیروں سے بھرا ہوا ایک برتن نظر آیا۔ والدہ نے پوچھا کہ اتنے سارے بیر کہاں سے آگئے ؟ تو ماموں شرما گئے گویا کہ ان کی کوئی بہت بڑی چوری پکڑی گئی ہے اور شرما کر کہنے لگے کہ یہ میں نے بوبو (اپنی بیوی)کے لئے رکھے ہوئے تھے۔ میری والدہ شادی کے بعد اپنے گائوں سے گوجر خان آگئی تھیں۔ اس زمانے میں ذرائع آمدورفت بہت محدود تھے اور لوگ اونٹوں اور گدھا گاڑیوں کو آمدورفت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ گوجر خان سے چکوال تک تو بس مل جاتی تھی لیکن آگے گائوں تک جانا ایک مشکل امر تھا۔ میرے والد صاحب چند دن پیشتر خط لکھ کر ہمارے ننھیال والوں یعنی ماموں نور کو بھیج دیتے تھے کہ وہ بچوں کو صبح بس پر سوار کرا دیں گے۔ آگے سے ماموں نور اپنا گدھا لے کر آجاتے تھے اور ایک دشوار گزار علاقہ جسے ”سرلہ” کے نام سے پہچانا جاتا تھا، کے ذریعے ڈلوال گائوں میں پہنچے تھے۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ گائوں میں والد صاحب کا خط نہ پہنچا اور ہمیں پریشانی میں والد صاحب کے ایک دوست کے گھر اپنی والدہ کے ساتھ چکوال میں رکنا پڑا۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں فون، موبائل اور سوشل میڈیا جیسی سہولتیں میسر نہ تھی۔ ماموں نور صاحب کبھی کبھی ہمیں گوجر خان ملنے کے لئے آجاتے تھے ….جب میری عمر تقریبا پانچ سال ہوگی، ایک مرتبہ ماموں نور میری والدہ صاحبہ کو ملنے گوجر خان آئے۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ ”بے بے جی” مجھے گھٹنے پر چوٹ کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی ہے اور میں کسی حکیم یا ڈاکٹر کو دکھانا چاہتا ہوں۔ یاد رہے کہ بڑی بہن کو لوگ ”بیبیجی” کے نام سے پکارتے تھے۔ میری والدہ صاحبہ نے کہا کہ آج میرا بیٹا رزاق گھر آئے گا تو اس سے بات کرتی ہوں۔ رات کو بھائی گھر آئے تو والدہ نے انہیں ماموں کی تکلیف کا ذکر کیا۔ اس وقت جی ٹی روڈ پر گوجر خان کا سول ہسپتال ایک بڑا ہسپتال تھا جس میں سول سرجن بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو دکھایا گیا تو انہوں نے کہا کہ گھٹنے میں چوٹ کی وجہ سے انفکیشن ہو گیا ہے جس کا چھوٹا سا آپریشن کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر نے آپریشن تو کر دیا لیکن خود لاہور چلا گئے اور کئی دن تک غائب رہے۔ ماموں کی تکلیف بڑھتی گئی۔ اور ماموں کو بھی اپنی والدہ کو دیکھئے بہت دن گزر گئے تھے تو وہ اپنی ماں کو یاد کرکے بار بار کہتے تھے کہ ماں کب آئے گی؟ لیکن پیغام اور خط لکھنے کے باوجود ان کی والدہ یعنی میری نانی جان نہ آسکیں تو مایوسی کے عالم میں کہتے تھے کہ ”ماں اج وی نہیں آئی” ، ”ماں اج وی نہیں آئی” ادھر جب ڈاکٹر صاحب لاہور سے کئی دن کے بعد بھی واپس نہ آئے تو موقع پر موجود اور دیگر سٹاف نے انہیں مزید علاج کے لئے راولپنڈی ڈسڑکٹ ہسپتال میں جانے کا مشورہ دیا۔ الغرض انہیں راولپنڈی ڈسڑکٹ ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ وہ ٹیٹنش(Tetanus) جیسی موذی مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اوران کا علاج جاری تھا کہ اچانک ان کی ڈیتھ ہوگئی۔ ایسا مشکل وقت اللہ کسی کو بھی نہ دکھائے۔ نہ ماں باپ کو پتہ چلا اور نہ بیوی اور دیگر بہن بھائیوں کو۔ گویا وہ پردیس ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ بڑا ہی تکلیف دہ تھا وہ منظر جب ان کی میت
کو بغیر اطلاع کے آدھی رات کو ماں کے گھر پہنچایا گیا! ماں باپ کا کیا حال ہوگا اور بہن نے کس طرح اپنے میکے والوں کا سامنا کیا ہوگا؟ یہ سوچ کر ہی جسم و روح کانپ جاتے ہیں۔
اس واقعہ کے بعد ہم نے اپنی والدہ کو ہمیشہ غمزدہ اور سنجیدہ ہی دیکھا۔یہاں ایک چھوٹی سی بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔جب ہم چھوٹے تھے اور ساتھ والے محلے میں اتے جاتے تھے تو لوگ ہم سیپوچھتے تھے کہ تم مقامی ہو یا مہاجر، ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی لیکن والدہ نے بتایا کہ جو لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے ہیں انہیں مہاجر کہا جاتا ہے لیکن والدہ نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں نے بہت دکھ و تکالیف برداشت کی ہیں۔ ایسے گھروں میں والدہ کا بہت آنا جانا تھا۔ اکثر وہ مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھیں لیکن کئی گھروں میں، میں نے دیکھا کہ کچھ عورتیں کونے میں چھپ کر رو رہی ہوتی تھیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ عورتیں روتی کیوں ہیں؟غالبا یہ واقعہ 1953 ء کا ہے، جب میری عمر بہت چھوٹی تھی، پاکستان 1947 میں بنا تھا۔ ہزاروں لوگ جب ہندوستان سے پاکستان آئے تو راستے ہی میں انہیں شہید کر دیا گیا۔ کسی کا بھائی، کسی کا باپ اور کسی کی بہن پاکستان پر قربان ہوگئی! تب مجھے سمجھ آیا کہ والدہ اپنے بھائی کے بچھڑ جانے پر کیوں روتی تھیں…. حکیموں و ڈاکٹروں کی لاپروائی، نااہلی اور غلط آپریشن سے جو لوگ دنیا سے رخصت ہو جائیں یا جن لوگوں نے پاکستان بنتے ہوئے جان کی قربانی دی ہو اور یا وہ جو آئے دن دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہوں اور سرحدوں پر جان دے کر شہید ہو رہے ہاں ہوں ان سب کے دکھ سانجھے ہیں۔اللہ ان کی قبروں پر رحمتیں برسائے، مغفرت سے نوازے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین