روزانہ بادام کھانے کے حیران کن فوائد

بادام میں موجود مختلف غذائی اجزا دل، خون کی شریانوں، آنتوں اور دماغ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

روزانہ بادام کھانے کے حیران کن فوائد-بادام میں موجود مختلف غذائی اجزا دل، خون کی شریانوں، آنتوں اور دماغ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

بادام کو عرصہ دراز سے متوازن غذا کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم غذائیت سے متعلق جدید تحقیق نے اس عام سے نظر آنے والے خشک میوے کے کئی ممکنہ فوائد کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بادام میں موجود مختلف غذائی اجزا دل، خون کی شریانوں، آنتوں اور دماغ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔

بادام کو دہی، دلیے یا دیگر کھانوں کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ انہیں بھون کر، پیس کر یا مختلف غذائی مصنوعات کی شکل میں بھی کھایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شکل تبدیل ہونے کے باوجود بادام میں موجود بہت سے بنیادی غذائی اجزا برقرار رہتے ہیں۔

قدیم تاریخ سے بھی بادام کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ آثار قدیمہ سے ملنے والے شواہد کے مطابق مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں ہزاروں سال پہلے بھی بادام کی کاشت کی جاتی تھی۔ طویل عرصے تک محفوظ رہنے اور توانائی فراہم کرنے کی وجہ سے انہیں قدیم زمانے میں اہم خوراک تصور کیا جاتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پر بادام کو گری دار میوہ کہا جاتا ہے، تاہم نباتاتی اعتبار سے یہ بادام کے درخت کے پھل کے اندر موجود بیج ہے۔ اسے ثابت حالت میں کھانے کے علاوہ بادام سے مکھن، دودھ اور آٹا بھی تیار کیا جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق بادام میں مونو اَن سیچوریٹڈ چکنائیاں، فائبر، وٹامن ای اور پولی فینولز سمیت متعدد اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ دل اور خون کی شریانوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بادام کے ممکنہ فوائد میں آنتوں کی صحت بھی شامل ہے۔ ان میں موجود فائبر آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے لیے غذا کا کردار ادا کرسکتا ہے، جس سے گٹ مائیکرو بایوم کو سپورٹ مل سکتی ہے۔

دماغی صحت کے حوالے سے بھی بادام پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق خون کی شریانوں کی صحت اور دماغی صحت کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے، جبکہ خون کی شریانوں سے متعلق مسائل ڈیمنشیا کے خطرے سے بھی وابستہ ہوسکتے ہیں۔ تاہم بادام کو ڈیمنشیا کا علاج یا اس سے بچاؤ کی یقینی دوا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کنگز کالج لندن سے وابستہ غذائی ماہر ڈاکٹر سارہ بیری کے مطابق گری دار میوے میں دل کے لیے مفید چکنائیاں، فائبر اور حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات موجود ہوتے ہیں، جو خون کی شریانوں کے افعال اور آنتوں میں موجود مفید جرثوموں کی صحت کو سپورٹ کرسکتے ہیں۔

بادام میں پولی فینولز بھی پائے جاتے ہیں، جو جسم میں مختلف حیاتیاتی عمل اور سوزش سے متعلق راستوں پر اثر انداز ہونے والے مرکبات ہیں۔

اس کے علاوہ بادام میں ارجینین نامی امینو ایسڈ موجود ہوتا ہے۔ یہ جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی تیاری میں کردار ادا کرتا ہے، جو خون کی شریانوں کو پھیلانے اور ان کے معمول کے افعال میں اہمیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بادام کو متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، تاہم صحت مند رہنے کے لیے صرف ایک غذائی چیز پر انحصار کرنے کے بجائے مجموعی طور پر متوازن خوراک، مناسب جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی اپنانا زیادہ اہم ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

😠
سخت نا پسند
0 Votes
😑
بہتر ہو سکتی تھی
0 Votes
😉
ٹھیک ہے
0 Votes
🙂
اچھی ہے
0 Votes
👍
بہت اچھی ہے
0 Votes