حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا نیا دور متوقع

حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا نیا دور متوقع-پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔

حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا نیا دور متوقع-پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر جاری جماعت اسلامی کے احتجاج کے معاملے میں حکومت نے ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی سے دوبارہ رابطہ کیا گیا ہے اور فریقین کے درمیان معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے اور ہفتے کے روز جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے۔

لیاقت بلوچ نے حکومتی رابطے کے جواب میں کہا کہ وہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور سینیئر قیادت سے مشاورت کے بعد حکومت کو اپنے موقف سے آگاہ کریں گے۔

جماعت اسلامی کے نائب امیر نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔

مذاکرات کے حوالے سے جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ مذاکرات کی دعوت دینے کے لیے وفد منصورہ لاہور پہنچا تھا، جبکہ بعد ازاں مذاکرات کے چار ادوار اسلام آباد میں ہوئے۔

حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان آخری ملاقات بدھ 16 ستمبر کو ہوئی تھی۔ اب حکومت کی جانب سے دوبارہ رابطے کے بعد مذاکرات کے نئے دور کے انعقاد کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔