مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس،سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کا فیصلہ
مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس،سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کا فیصلہ
مکہ دفاعی اتحاد کا ہنگامی اجلاس-مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں اتحادی ممالک نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے فوجی دستے اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے اور انہیں سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے اتحاد کے سیکریٹری جنرل کی تقرری پر اتفاق کرتے ہوئے نعمان محمود کو ذمہ داری ملنے کا خیرمقدم کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ فریقین نے اتحاد کے مقاصد کے حصول میں سیکریٹری جنرل کے کردار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ساتھ سعودی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ فریقین نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی حملے یا خطرے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس سے قبل ہونے والی سیاسی اور عسکری مشاورت کے نتائج کا جائزہ لیا گیا اور پیش کی گئی سفارشات کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مکہ دفاعی اتحاد اجتماعی دفاع اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مشترکہ عسکری افواج اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرکے انہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مشترکہ دفاعی اقدامات منظور شدہ طریقہ کار اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔ ان اقدامات سے عسکری تیاری، باہمی انضمام اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ترجمان کے مطابق معاہدے کے تحت ہر فریق کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا حصہ تصور کی جائے گی۔ مکہ معاہدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا تینوں ممالک کے مشترکہ دفاعی عزم کا اظہار ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک نے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اتحاد اور عزم کی بھی تصدیق کی ہے۔ اس مقصد کے لیے طے شدہ فوجی دستے اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنے سمیت انہیں سعودی عرب میں جلد تعینات کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
