ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨277.91 🇪🇺 یورو ₨317.41 🇬🇧 پاؤنڈ ₨370.20 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.11 🇦🇪 درہم ₨75.67 🇨🇳 چینی یوان ₨41.03

نیتن یاہو کو سیاسی دھچکا،لیکود کے رکن دان ایللوز مستعفی

👁️ 3 مرتبہ پڑھا گیا
نیتن یاہو کو سیاسی دھچکا،لیکود کے رکن دان ایللوز مستعفی

اسرائیل کی حکمران لیکود پارٹی کو اس وقت سیاسی دھچکا لگا جب کنیست (پارلیمنٹ) کے رکن دان ایللوز نے پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں پارٹی اپنی اصل پالیسیوں سے ہٹ چکی ہے اور اس پر مخصوص مذہبی گروہوں کے مفادات حاوی ہو گئے ہیں۔

دان ایللوز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ایسی جماعت کی حمایت نہیں کر سکتے جس پر انہیں خود اعتماد نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد لیکود کے متعدد ارکان اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ نیتن یاہو کو قیادت چھوڑ دینی چاہیے، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پارٹی کے تقریباً ایک تہائی ارکان قیادت میں تبدیلی کے حامی تھے اور ان کی رائے تھی کہ جنگی حالات کے باوجود عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیراعظم کو تبدیل کیا جا سکتا تھا۔

دان ایللوز نے اپنی جماعت پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مفادات کے لیے الٹرا آرتھوڈوکس (ہریدی) جماعتوں کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے قانون کے ذریعے جس کا مقصد مذہبی طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے استثنیٰ دینا ہے۔

ان کے مطابق اسرائیلی فوج پہلے ہی افرادی قوت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کی کوشش قومی مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکود مسلسل اتحادی جماعتوں کے دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے، جس سے پارٹی کے بنیادی ووٹرز بھی مایوس ہو رہے ہیں۔

ادھر لیکود کی داخلی عدالت کے جج عمانوئل ویزر نے بھی انہی وجوہات کی بنیاد پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں لیکود کو کمزور کرنے اور ایسی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کریں گے جو ان کے بقول اصولی مؤقف رکھتی ہوں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون منظور کیا، جس کے تحت فوجی خدمت سے بچنے والے بعض الٹرا آرتھوڈوکس افراد کے خلاف کارروائی عارضی طور پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اس قانون پر عمل درآمد عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے اس پر جلد سماعت کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی قانون کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کے لیے پارٹی چھوڑنے کے بعد فوری طور پر اپنی پارلیمانی نشست سے استعفیٰ دینا ضروری نہیں ہوتا، اس لیے امکان ہے کہ دان ایللوز فی الحال کنیست کے رکن رہیں گے، تاہم وہ اب لیکود پارٹی کا حصہ نہیں ہوں گے۔