امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب بعض ایرانی جزائر پر زمینی فوج تعینات کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی سکیورٹی بریفنگز میں صدر ٹرمپ کو سفارتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ممکنہ فوجی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیر غور تجاویز میں وسیع فضائی حملے، جوہری پروگرام سے متعلق مضبوط دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا، جزیرہ خارگ سمیت اہم مقامات پر ممکنہ کارروائیاں اور زیر زمین ٹنل کمپلیکس پر حملے کے آپشنز بھی شامل ہیں۔ تاہم امریکی حکومت نے ان تجاویز کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی جانب جانے والے ایک ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا۔
سینٹ کام کے مطابق متعلقہ تجارتی جہاز نے متعدد انتباہات کے باوجود امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی، جس پر امریکی طیارے نے اس کے دھوئیں کے اسٹیک کو میزائل سے نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد جہاز اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
رپورٹ میں شامل دعوؤں اور حالیہ فوجی کارروائیوں سے متعلق بعض تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
