ABS24
نیوز
ABS24 News Network
💰 زرمبادلہ
🇺🇸 امریکی ڈالر ₨277.91 🇪🇺 یورو ₨317.41 🇬🇧 پاؤنڈ ₨370.20 🇸🇦 سعودی ریال ₨74.11 🇦🇪 درہم ₨75.67 🇨🇳 چینی یوان ₨41.03

شیخ حسینہ سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد

👁️ 5 مرتبہ پڑھا گیا
شیخ حسینہ سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد

 ڈھاکا: بنگلادیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو) نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، ان کے خاندان اور متعدد کاروباری گروپوں سے منسلک تقریباً 6 ارب 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادارے کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی دولت جمع کرنے، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ سے متعلق جاری تحقیقات کے تحت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں شیخ حسینہ واجد، ان کے اہل خانہ اور 10 کاروباری گروپوں سے وابستہ اثاثے شامل ہیں، جن میں بنگلادیش کے اندر موجود جائیدادیں اور بیرون ملک رکھے گئے اثاثے بھی شامل ہیں۔

بی ایف آئی یو کے سربراہ اختیار الدین محمد مامون کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے مالی معاملات کی تحقیقات 2024 سے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منجمد کیے گئے اثاثوں میں تقریباً 57 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلادیش میں جبکہ 19 ہزار کروڑ ٹکا مالیت کے اثاثے بیرون ملک موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک منتقل کیے گئے اثاثوں کی واپسی کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ قانونی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک اس سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔

بی ایف آئی یو کے مطابق تحقیقات کے دوران سیاسی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جاتا بلکہ صرف دستیاب شواہد اور مشتبہ مالی لین دین کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے ثبوت ملتے ہیں تو اس کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے قانون کے مطابق منجمد کیے جا سکتے ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے متعدد مقدمات بھی درج کیے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود اثاثوں کی بازیابی کے لیے بین الاقوامی اداروں اور متعلقہ ممالک سے تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔