سوات۔جھیل سیف اللہ میں جاں بحق ہونے والے خاندان کے سربراہ نے کشتی سے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش کی مگر پھر واپس لوٹ گئے اور بچوں اپنے بازوں کے حصار میں لے لیا۔
بی بی سی اردو کے مطابق سیف اللہ جھیل میں پانی کا بہا انتہائی تیز تھا اور بظاہر کشتی میں موجود افراد خوفزدہ تھے اور مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ پر چھلانگ نہیں لگا رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے۔اس کے بعد کا منظر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے بھی دیکھا کہ خاندان کے سربراہ نے اپنے تمام بچوں کو اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کی اور انھیں اپنے بازوں کے حصار میں لے لیا۔
سعد کریم صوبہ خیبرپختونخوا میں سوات کے قریب واقع سیف اللہ جھیل کے کنارے واقع ایک ریستوران کے مالک ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ دو روز قبل اس جھیل میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ کے عینی شاہد ہیں جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 6افراد کی ہلاکت ہوئی۔پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل کی بڑی بیٹی امریکا سے پاکستان چھٹیاں گزارنے آئیں تھیں، جس کے بعد اوندل فیملی نے مل کر سوات جانے کا فیصلہ کیا تاکہ پورا خاندان ایک ساتھ اچھا وقت گزار سکے، مگر اہلخانہ کے مطابق کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس سفر کا انجام اتنا المناک ہو گا۔
دو روز قبل (یکم جولائی) لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر اوندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ الٹ گئی، اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل، ان کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ اوندل، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا اوندل اور 23 سالہ رویل اوندل جبکہ پروا اوندل کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔
عامر اوندل کی تیسری بیٹی بشری تاحال لاپتہ ہیں اور ریسکیو اہلکار ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس خاندان کے چھ افراد کی تدفین جمعرات کی شام لاہور میں کر دی گئی ہے۔ عینی شاہدین اور اہلِخانہ کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور اسی کوشش میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھے۔
سوات میں پیش آنے والے اس واقعہ کا مقدمہ کنعان لیاقت کی مدعیت میں تھانہ کالام میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے مقف اختیار کیا ہے کہ ان کے چچا عامر اوندل اپنے اہلِخانہ کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے سوات آئے تھے جہاں انہوں نے پاکستان نیوی کے ریسٹ ہاس جالبنڈر میں رات گزاری اور اس کے بعد وہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل کی سیر کے لیے روانہ ہوئے۔
درخواست گزار کے مطابق شام کے وقت انہیں پاکستان نیوی کے دفتر سے اطلاع ملی کہ ان کے چچا اور ان کے اہلِخانہ کو سیف اللہ جھیل میں حادثہ پیش آیا ہے اور تمام متاثرین کو کالام اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ عامر اوندل اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ کشتی میں جھیل کی سیر کے لیے سوار ہوئے تھے۔
درخواست گزار کے مطابق کشتی کا انجن بند تھا اور مسافروں کو اِسی حالت میں کشتی میں بٹھایا گیا، بعد ازاں انجن اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ چل نہ سکا اور ڈرائیور کی مبینہ غفلت کے باعث کشتی الٹ گئی۔ سوات پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور واقعہ کی مختلف پہلوں سے تفتیش جاری ہے۔ دوسری جانب ریسکیو 1122 سوات کا کہنا ہے کہ لاپتہ خاتون بشری کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ عینی شاہد سعد کریم کے مطابق سیف اللہ جھیل میں عام طور پر مسافروں کو کنارے پر کشتی میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے بعد کشتی کو دھکا دے کر گہرے پانی کی جانب لے جایا جاتا ہے اور کچھ فاصلے پر پہنچ کر کشتی کا انجن اسٹارٹ کیا جاتا ہے،
متاثرہ کشتی کے ساتھ بھی یہی ہوا، لیکن جب کشتی نسبتا گہرے پانی میں پہنچی تو ڈرائیور انجن اسٹارٹ نہ کر سکا۔ سعد نے کہا کہ کشتی پانی کے بہا کی وجہ سے جلد ہی اس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گِرتا ہے۔ وہاں پانی کا بہا بہت تیز ہوتا ہے اور اسی مقام پر یہ کشتی پانی میں ڈوبی۔ سعد کے مطابق اس موقع پر صورتحال کو دیکھتے ہوئے کشتی کے ڈرائیور نے مدد کے لیے آواز بھی لگائی جس پر ایک دوسری کشتی مدد کے لیے روانہ بھی ہوئی۔
‘ہم کنارے پر یہ سب دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی ڈرائیور نے مدد طلب کی تو میں بھی ایک دوسری لانچ لے کر پانی میں نکلا اور مجھ سے پہلے ایک اور لانچ متاثرہ کشتی کے قریب پہنچ چکی تھی۔ سعد کریم نے بتایاکہ امداد کے لیے پہنچنے والی کشتی جیسے ہی متاثرہ کشتی کے قریب پہنچی تو اِس میں موجود افراد سے کہا گیا کہ وہ فورا مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ میں چھلانگ لگا دیں۔ ‘اس موقع پر متاثرہ کشتی کا ڈرائیور خود چھلانگ لگا کر امدادی لانچ پر پہنچ گیا، مگر بظاہر پانی کے بہا سے خوفزدہ مہمان چھلانگ نہیں لگا پا رہے تھے۔’ ‘وہ لوگ خوفزدہ تھے اور چھلانگ نہیں لگا رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے۔
‘اس کے بعد کا منظر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے بھی دیکھا کہ انہوں نے اپنے تمام بچوں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور بازوں کے حصار میں لے لیا۔ ریستوران کے مالک کے مطابق ‘پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کشتی پانی میں ڈوب گئی اور اس میں سوار تمام لوگ بھی اس کے ساتھ ڈوب گئے،یہ مناظر دیکھ کر کچھ مقامی افراد نے پانی میں چھلانگیں بھی لگائیں تاکہ کسی طرح انہیں بچایا جا سکے مگر سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ کسی کو کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ‘یہ پورا واقعہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پیش آیا۔ اس ایک منٹ کے اندر اندر کشتی بھی پانی میں غائب ہو گئی اور اس میں سوار لوگ بھی،ایک اور عینی شاہد مصطفی خان جو جھیل سیف اللہ پر لانچ چلاتے ہیں، نے بھی تقریبا یہی منظر بیان کیا۔ان کے مطابق جب کشتی پانی میں ڈوب رہی تھی تو ‘ایسا لگ رہا تھا جیسے خاندان کا سربراہ ہر ممکن طریقے سے اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اس وقت پانی کا بہا انتہائی تیز تھا اور کوئی کچھ نہ کر سکا۔
ذیشان اوندل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل کے بھتیجے ہیں۔ حادثے کے وقت وہ بھی اپنے خاندان کے ہمراہ کالام میں سیر و تفریح کے لیے موجود تھے۔ انھیں اس واقعے کی اطلاع پاکستان نیوی کی جانب سے دی گئی تھی۔ ذیشان اوندل بتاتے ہیں کہ اطلاع ملتے ہی وہ فورا کالام اسپتال پہنچے،جب میں اسپتال پہنچا تو چھ افراد کی لاشیں وہاں موجود تھیں، جن میں میرے چچا کی بیٹی کے دو کم عمر بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں ،وہ کہتے ہیں کہ اسپتال میں موجود لوگوں نے انہیں بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے تھے،
حالانکہ ان کی پوری زندگی سمندر سے وابستہ رہی تھی اور وہ ایک ماہر تیراک تھے۔ ذیشان اوندل کہتے ہیں کہ ان کا اور عامر اوندل کا تعلق محض چچا اور بھتیجے کا نہیں تھا،وہ بتاتے ہیں کہ اس واقعہ میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اوندل کے علاوہ ان کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو کم عمر بچے، راویل اوندل اور عبداللہ بھی جان کی بازی ہار گئے جبکہ امریکا سے چھٹیاں گزارنے آنے والی ان کی بڑی بیٹی بشری اوندل تاحال لاپتہ ہیں۔
ذیشان اوندل کے مطابق یہ ٹرپ بشری کی امریکا سے آمد پر بنایا گیا تھا۔ ‘جب اس دورے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو میرے چچا نے کہا تھا کہ ہمیں سب کو مل کر کچھ وقت اکٹھا گزارنا چاہیے کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو،وہ بتاتے ہیں کہ بشری اوندل کو پہاڑوں اور پانی سے غیرمعمولی لگا تھا،’جب وہ امریکا سے پاکستان آنے لگی تھیں تو اسی وقت انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اس بار ہم ضرور سوات جائیں گے۔ ذیشان اوندل چند لمحے خاموش رہتے ہیں، پھر آہستہ سے کہتے ہیں کہ شاید خاندان کے کسی فرد نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ خوشیوں کے لیے ترتیب دیا گیا یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔