تہران: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی میتیں تہران کی ایک مسجد میں عوامی دیدار اور دعائیہ تقریب کے لیے منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں ملک بھر سے شہری اور مختلف ممالک کے وفود حاضری دے رہے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دعائیہ تقریب میں متعدد غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کر کے مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی، افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سمیت مختلف ممالک کے نمائندے تہران پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تاجکستان، چین اور بھارت کے حکام کی شرکت بھی متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات، نمازِ جنازہ اور تدفین کے مراحل کئی دنوں پر محیط ہوں گے۔
منصوبے کے تحت تہران اور قم میں رسومات کی ادائیگی کے بعد تدفین آئندہ جمعرات کو مشہد میں متوقع ہے، جبکہ اس سے قبل میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔