سرگودھا: سرگودھا کے محلہ کارخانہ بازار میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا زہرا کے مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعے نے پورے شہر کو سوگ میں ڈال دیا ہے۔
بچی 22 جون کو قریبی حنیف کریانہ سٹور سے سامان لینے گئی تھی جہاں سے وہ واپس نہیں لوٹی۔خاندان کی تلاش کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی تو بچی دکان میں داخل ہوتی نظر آئی لیکن باہر نکلتی نہیں دکھائی دی۔ پولیس نے دکان کی تلاشی لی تو عمارت کے بالائی حصے میں بچی کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی پر جنسی حملہ کیا گیا اور گلہ کاٹ کر قتل کیا گیا۔پولیس نے دکان کے ملازم ارسلان کو مرکزی ملزم قرار دیا جبکہ دکان مالک محمد عباس سمیت دیگر افراد کو بھی تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا۔ مرکزی ملزم ارسلان بعد میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔
اس سانحے کے بعد عوام میں شدید غصہ پھیل گیا۔ مقامی لوگوں نے دکان کا سامان باہر پھینک کر ضائع کر دیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ نہ تو مال لوٹ رہے تھے بلکہ اسے ضائع کر کے درندوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہتے تھے تاکہ مستقبل میں کسی کی بیٹی کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو سکے۔
عوامی ردعمل:
لوگوں کا کہنا ہے کہ نظام انصاف ناکام ہو چکا ہے اس لیے عوام خود احتساب کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے مکمل تفتیش اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ "منتہا اب واپس نہیں آئے گی لیکن اس جیسے واقعات روکنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں”۔پنجاب حکومت اور پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا یقین دلایا ہے جبکہ شہریوں سے پرامن رویہ اپنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ نوٹ: یہ واقعہ زینب انصاری کے قتل کی یاد تازہ کر گیا ہے اور بچوں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین اور آگاہی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔