امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر وہ جلد چینی صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے، تاہم اس مسئلے میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب کوئی معاہدہ امریکی مفادات کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ بندرگاہوں کی ناکہ بندی مکمل طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس دو ہی راستے تھے، یا ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے دی جائے یا اس عمل کو روکا جائے۔ ان کے بقول جو لوگ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حق میں ہیں وہ غیر دانشمندانہ سوچ رکھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کی جانب بڑھ رہا ہے جو امریکی عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا، جبکہ اس کے مثبت اثرات ایرانی عوام تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مذاکرات کی مدت یا ممکنہ اختتام کے بارے میں تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اسٹاک مارکیٹ مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔
ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے کردار کو نسبتاً مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ملاقات میں ایران سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
گفتگو کے دوران امریکی صدر نے پاکستان کا بھی ذکر کیا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مذاکراتی عمل میں مثبت کردار ادا کرنے پر سراہا۔