لارڈز ٹیسٹ میں شکست، پاکستانی ٹیم میں بڑا آپریشن کلین اپ
لارڈز ٹیسٹ میں شکست، پاکستانی ٹیم میں بڑا آپریشن کلین اپ
لارڈز ٹیسٹ میں شکست، پاکستانی ٹیم میں بڑا آپریشن کلین اپ-لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی disappointing کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردی ہیں۔
برمنگھم ٹیسٹ سے قبل قومی اسکواڈ میں سات نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ متعدد کھلاڑیوں کو ٹیم سے ریلیز کردیا گیا۔
پی سی بی کے مطابق محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ریلیز کردیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد بھی آئندہ ٹیسٹ کے لیے قومی اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
برمنگھم ٹیسٹ کے لیے سات نئے کھلاڑیوں کو پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جن میں پانچ ایسے کرکٹرز ہیں جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کی، جبکہ دو کھلاڑی پہلے ہی قومی ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔
سائم ایوب اور عبداللہ فضل کی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔ سائم ایوب پاکستان کی جانب سے 8 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں جبکہ عبداللہ فضل دو ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
لیفٹ آرم اسپن آل راؤنڈر عرفات منہاس کو بھی اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے تین ون ڈے اور چار ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔
لیفٹ آرم فاسٹ بولر محمد عمران جونیئر بھی قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قائداعظم ٹرافی 2025-26 کے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ سعد بیگ کو پہلی مرتبہ پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ کے ساتھ رائٹ آرم پیس بولنگ آل راؤنڈرز محمد عمران اور رضا اللہ کو بھی اسکواڈ میں جگہ دی گئی ہے۔ نئے کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم کو جوائن کریں گے۔
کوچنگ اسٹاف میں بھی اہم تبدیلیاں
کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے بیک روم اسٹاف میں بھی تبدیلی کردی گئی ہے۔ پی سی بی نے سرفراز احمد اور عمر گل کو بیک روم اسٹاف سے ریلیز کردیا، جبکہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ٹیم کے بیک روم اسٹاف میں شامل کرلیا گیا ہے۔
برمنگھم ٹیسٹ کے لیے پاکستان کا 16 رکنی اسکواڈ بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ ٹیم کی قیادت بابر اعظم کریں گے جبکہ اسکواڈ میں دو وکٹ کیپرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
لارڈز میں شکست کے بعد ہونے والی یہ تبدیلیاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اہم قرار دی جارہی ہیں اور نئے کھلاڑیوں کی شمولیت سے ٹیم کمبی نیشن میں بھی نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔
