مقدس مقامات کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے،ایران

مقدس مقامات کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے،ایران- الزام کے مطابق کارروائی کسی دوسرے فریق نے کی ہو۔

مقدس مقامات کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے،ایران-اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی تنازعات یا علاقائی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے، ایرانی وزارت خارجہ

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ کو سیاسی تنازعات یا علاقائی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ سمیت اسلامی مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی جارحیت قابل مذمت ہے۔ ان کے مطابق ان مقامات کے زائرین اور وہاں رہنے والے افراد کو خطرے میں ڈالنا بھی ناقابل قبول ہے۔

ایرانی ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حمایت یافتہ عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کردیا گیا۔

حوثیوں نے تاہم مکہ مکرمہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ صرف کسی ڈرون کو مکہ مکرمہ کی جانب جاتے ہوئے روکنے کا دعویٰ کسی مخصوص فریق کو ذمہ دار قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ ایسے معاملات میں احتیاط اور ہوشیاری سے کام لیا جائے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ عرصے کے دوران ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جنہیں ایران فالس فلیگ کارروائیوں سے تعبیر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان کا مقصد اسرائیل اور امریکا سے متعلق علاقائی تنازعات سے توجہ ہٹانا اور اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہوسکتا ہے۔

فالس فلیگ سے مراد ایسی کارروائی ہے جس کی ذمہ داری ایک فریق پر عائد کی جائے، جبکہ الزام کے مطابق کارروائی کسی دوسرے فریق نے کی ہو۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ مقدس مقامات سے متعلق کسی بھی دعوے یا واقعے پر فوری نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے محتاط طرز عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔