سندھ چکے کے 72 ڈاکوئوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا
سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی 2025 کے تحت پولیس لائن شکارپور میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کچےکے کے 72 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔
تقریب میں ڈاکوؤں کے جمع شدہ جدید اسلحے کی نمائش بھی کی گئی، جس میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر، اینٹی ایئرکرافٹ گن اور دیگر ہتھیار شامل تھے۔ مجموعی طور پر ہتھیاروں کی مالیت 6 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی۔
شکار پور کچے کے 70 ڈاکوٶں نے قانون کے سامنے ہتھیار ڈال دیے pic.twitter.com/Lqi2ruY3Os
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) October 22, 2025
معروف ڈاکوؤں میں شامل نثار سبزوئی کے خلاف 82 مقدمات درج ہیں اور اس کے سر کی قیمت 3 ملین روپے تھی۔ دیگر اہم ڈاکوؤں میں لادو تیغانی (93 ایف آئی آرز، سر کی قیمت 2 ملین روپے)، سوکھیو تیغانی (49 مقدمات، سر کی قیمت 6 ملین روپے)، سونارو تیغانی (26 مقدمات، سر کی قیمت 6 ملین روپے) اور جمعو تیغانی (24 مقدمات، سر کی قیمت 20 لاکھ روپے) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ گلے میں ڈور پھرنے سے 21 سالہ موٹر سائیکل سوار جاں بحق
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کو قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور حکومت چاہتی ہے کہ وہ پرامن شہری بنیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت کچے کے لوگوں کو روزگار کے مواقع، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈز، بچوں کی تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ گھوٹکی کا کچےکا علاقہ مکمل طور پر کلیئر نہیں ہوا، اور 2012 میں شروع ہونے والی ہنی ٹریپ کارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں۔
