امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا
امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا
امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کا متن سامنے آگیا-امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون سے متعلق معاہدے کی دستاویز سامنے آگئی ہے، جس میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں کی گئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کو فراہم کی گئی معاہدے کی دستاویز میں اسرائیل سے متعلق ابراہیمی معاہدوں کا بھی کوئی حوالہ موجود نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو یورینیم 20 فیصد تک افزودہ کرنے کی گنجائش دی گئی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کی تحریری رضامندی ضروری ہوگی۔
دستاویز کے مطابق اگر سعودی عرب یورینیم افزودگی کے لیے امریکی ٹیکنالوجی یا آلات استعمال کرتا ہے تو افزودگی کی زیادہ سے زیادہ حد 5 فیصد ہوگی۔
معاہدے میں سعودی عرب کے لیے جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے، تاہم ریاض کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند نہیں بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور ریاض کے درمیان جوہری تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بات چیت جاری ہے۔
معاہدے کی شرائط میں یورینیم افزودگی، امریکی جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال اور سعودی جوہری تنصیبات کی نگرانی سے متعلق مختلف نکات شامل کیے گئے ہیں۔
