راجہ محمد ذوالقرنین خان انتقال کرگئے-آزاد کشمیر کے سابق صدر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سینئر رہنما راجہ محمد ذوالقرنین خان انتقال کرگئے
ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد آزاد کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں افسوس کی فضا ہے، جبکہ مختلف شخصیات کی جانب سے مرحوم کی سیاسی و حکومتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
راجہ محمد ذوالقرنین خان 15 مارچ 1936 کو ضلع بھمبر کے علاقے دھماوہ، کسگمہ میں ایک معروف سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خان بہادر راجہ محمد افضل خان ریاست جموں و کشمیر میں وزیر داخلہ، وزیر تعلیم اور وزیر مال سمیت اہم سرکاری ذمہ داریاں نبھا چکے تھے۔
راجہ محمد ذوالقرنین خان نے سری نگر، نئی دہلی اور لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے 1960 میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور معروف کشمیری رہنما خورشید حسن خورشید کے ساتھ وابستگی اختیار کرتے ہوئے جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ دو سال بعد انہیں جماعت کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
1967 میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ یونین کونسل کسگمہ و کلری کے چیئرمین منتخب ہوئے، جبکہ 1969 میں پہلی مرتبہ آزاد کشمیر حکومت میں وزارت کا منصب سنبھالا۔
1975 میں انہوں نے سماہنی کے حلقے سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا انتخاب جیتا۔ بعد ازاں 1985 اور 1991 میں بھی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ مختلف ادوار میں انہوں نے وزارت خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات، صحت اور مال جیسے اہم محکموں کی سربراہی کی۔
1996 میں انہیں جموں و کشمیر کونسل کا رکن منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے 7 جولائی 2001 تک خدمات انجام دیں۔ اس دوران چیئرمین کونسل کے مشیر کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد رہی۔
ان کے سیاسی کیریئر کا ایک اہم مرحلہ 27 جولائی 2006 کو آیا، جب انہوں نے صدارتی انتخاب میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔ انتخاب میں راجہ محمد ذوالقرنین خان کو 40 ووٹ ملے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر الزمان نے 8 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح وہ 32 ووٹوں کی برتری سے صدر آزاد کشمیر منتخب ہوئے۔
25 اگست 2006 کو چیف جسٹس آزاد کشمیر نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔ وہ 25 اگست 2011 تک پانچ سال صدر آزاد کشمیر کے منصب پر فائز رہے۔
ان کے دورِ صدارت میں 2005 کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے معاملات اہمیت کے حامل رہے۔ منگلا ڈیم ریزنگ منصوبے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی آبادکاری بھی اہم حکومتی امور میں شامل تھی۔ اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے حل، پاک بھارت مذاکرات اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے حل پر بھی وہ اپنا مؤقف پیش کرتے رہے۔
آئینی مدت مکمل ہونے پر 25 اگست 2011 کو وہ صدارتی منصب سے سبکدوش ہوگئے، جس کے بعد سردار محمد یعقوب خان نے صدر آزاد کشمیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
راجہ محمد ذوالقرنین خان کا سیاسی سفر 1960 میں شروع ہوا اور تقریباً چھ دہائیوں تک جاری رہا۔ بلدیاتی سیاست سے آغاز کرنے والے اس رہنما نے وزارتوں، قانون ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر کونسل میں خدمات انجام دینے کے بعد آزاد کشمیر کے ایوانِ صدر تک رسائی حاصل کی۔
ان کے انتقال سے آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ کی ایک اہم اور دیرینہ شخصیت کا سفر تمام ہوگیا۔





