مواد پر جائیں
تازہ ترین
تازہ ترین

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی

تحریر: muhammadaamiraa49@gmail.com پڑھنے کا وقت: 4 منٹ 1
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی-ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے معاہدے کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کرنا نہیں۔

600 ارکان پر مشتمل ترک پارلیمنٹ میں معاہدے کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 279 ارکان نے حمایت کی، جبکہ 119 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ مجموعی طور پر 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ پارلیمانی منظوری کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہوگیا ہے۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اس معاہدے کی منظوری سے انقرہ کے لیے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے خدشات اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

فواد اوکتائے نے واضح کیا کہ ترکیہ کو اس کی مرضی کے خلاف کسی غیر متوقع فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی فوجی دستے کی بیرون ملک تعیناتی کے لیے ترک پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔

مکہ مکرمہ میں معاہدے پر دستخط

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے میں تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

دفاعی اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہوگا

معاہدے کے انتظامی ڈھانچے کے تحت اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر تین سال تک اس ذمہ داری پر فائز رہیں گے۔

تینوں ممالک کے وزرا اب تک اس دفاعی تعاون کے سلسلے میں دو اہم ملاقاتیں کرچکے ہیں، جن میں ایک اجلاس استنبول اور دوسرا ریاض میں منعقد ہوا۔

اس کے علاوہ گزشتہ ماہ تینوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے تہران میں بھی مذاکرات کیے تھے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے خلاف امریکی جنگ کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دوبارہ فوجی تصادم کے امکانات کو روکنے کے لیے بات چیت کرنا تھا۔

معاہدہ 10 سال کے لیے ہوگا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک ابتدائی طور پر 10 سال تک اس معاہدے کے پابند رہیں گے۔ معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا خواہش مند کوئی بھی رکن ملک تین ماہ قبل باضابطہ نوٹس دینے کا پابند ہوگا۔

ترکیہ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو باقاعدہ قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم ہوگئی ہے۔ معاہدے میں اجتماعی دفاع، سلامتی کے تعاون اور فوجی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:واٹس ایپایکسٹیلیگرام

اپنی رائے لکھیں