ناریل پانی ہائیڈریشن اور دل کی صحت کیلئے مفید

دل کی صحت کے لیے بھی ناریل پانی کے ممکنہ فوائد سامنے آئے ہیں۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتا ہے

ناریل پانی ہائیڈریشن اور دل کی صحت کیلئے مفید-ناریل پانی قدرتی طور پر غذائیت سے بھرپور مشروب ہے جو جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں موجود مختلف معدنیات دل، گردوں اور مجموعی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

کچے سبز ناریل سے حاصل ہونے والے اس پانی کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ اس میں چکنائی کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جسمانی سرگرمی یا پسینے کے اخراج کے بعد اسے ہائیڈریشن کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ناریل پانی اور ناریل کا دودھ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ناریل کا دودھ کدوکش کیے گئے ناریل کو پانی کے ساتھ تیار کرکے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ ناریل پانی براہ راست کچے ناریل کے اندر موجود قدرتی مائع ہوتا ہے۔

ناریل پانی میں پوٹاشیم، میگنیشیم، کیلشیم اور فاسفورس سمیت مختلف معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ایک کپ یعنی تقریباً 240 ملی لیٹر ناریل پانی میں لگ بھگ 60 کیلوریز، 15 گرام کاربوہائیڈریٹس اور 8 گرام شکر موجود ہوتی ہے، جبکہ پوٹاشیم کی مقدار بھی قابل ذکر ہوتی ہے۔

اس مشروب میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس سے نمٹنے میں معاون ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ناریل پانی میں موجود بعض اجزا انسولین کی حساسیت اور بلڈ شوگر کو بہتر رکھنے میں بھی مددگار ہوسکتے ہیں، تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ اس میں قدرتی شکر اور کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں۔

گردوں کی صحت کے حوالے سے بھی ناریل پانی کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے اہم ہے، جبکہ ناریل پانی پیشاب میں کرسٹل بننے کے امکانات کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے بھی ناریل پانی کے ممکنہ فوائد سامنے آئے ہیں۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ بعض مطالعات میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح پر بھی مثبت اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ناریل پانی کو اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔ صحت مند افراد اسے دن کے وقت یا ورزش کے بعد مناسب مقدار میں پی سکتے ہیں، جبکہ گردوں کے امراض یا دیگر مخصوص طبی مسائل میں مبتلا افراد باقاعدگی سے استعمال شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اسی طرح ذیابیطس یا پری ڈائبیٹیز کے شکار افراد کو ناریل پانی کی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے اور اسے سادہ پانی کا مکمل متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

😠
سخت نا پسند
0 Votes
😑
بہتر ہو سکتی تھی
0 Votes
😉
ٹھیک ہے
0 Votes
🙂
اچھی ہے
0 Votes
👍
بہت اچھی ہے
0 Votes