روسی صدر کا ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان
روسی صدر کا ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان
روسی صدر کا ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان-کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران روسی صدر نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال میں روس ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ولادیمیر پیوٹن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں کے دباؤ کے باوجود روس اور ایران کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر موجودہ سیاسی اور عسکری کشیدگی اثرانداز نہیں ہوگی۔
ایرانی ایوان صدر کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ اس صورتحال میں روس اور چین سمیت ایران کے قریبی شراکت داروں پر بھی امریکی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روس اور ایران کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے دوران دفاع، توانائی، تجارت اور علاقائی معاملات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ماسکو کی جانب سے تہران کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی روابط برقرار رکھنے کا اعلان خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندی کی اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔
