سعودی عرب کے بڑے شہروں میں تینوں ممالک کے پرچم لہرا دیے گئے
مکہ مکرمہ: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مکرمہ میں اہم اور تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے پر سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلقات، اسلامی بھائی چارے اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔
من قلب عاصمة العرب والعروبة.. الرياض 🇸🇦🔥
تتزيّن بأعلام السعودية وتركيا وباكستان 🇸🇦🇹🇷🇵🇰 pic.twitter.com/ib5WrCiRRn— أرطبون ﮼١٧٢٧م ⚖️🇸🇦 (@artabon_sa) August 7, 2026
معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھایا جائے گا، جن میں فوجی تربیت، تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ، دفاعی صلاحیتوں میں بہتری اور دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔
معاہدے کے اعلان کے بعد سعودی عرب کے مختلف شہروں، خصوصاً دارالحکومت ریاض میں تینوں ممالک کے قومی پرچم نمایاں کیے گئے۔ اہم عمارتوں، ٹاورز اور بڑی اسکرینوں پر سعودی، ترک اور پاکستانی پرچم روشن کیے گئے، جبکہ رات کے وقت ریاض کی معروف عمارتوں پر تینوں ممالک کے پرچموں کی روشنی نے تینوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کی علامت پیش کی۔
سعودی حکام کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی فوجی محور یا فرقہ وارانہ بلاک کے قیام کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی دوسرے ملک کو ہدف بنانا ہے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دو طرفہ دفاعی معاہدے کے بعد دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اب ترکیہ بھی شامل ہو گیا ہے۔
