واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، تاہم انہیں ایرانی حکام سے ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں۔
لبنان کے صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے بقول ایران پر سخت بحری پابندیاں نافذ ہیں اور اس کے بحری راستوں پر کڑی نگرانی جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکلنے اور تعمیرِ نو میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحیرہ احمر میں سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو امریکا مناسب کارروائی کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی نہ کی جاتی تو وہ جوہری صلاحیت حاصل کر سکتا تھا، اسی لیے امریکا نے سخت مؤقف اختیار کیا۔
صدر ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے کو کامیاب سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
حوثی گروپ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ سخت اقدامات کے بعد ان کی جانب سے کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم ضرورت پڑنے پر دوبارہ مؤثر کارروائی کے لیے امریکا تیار ہے۔
حزب اللہ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اگر لبنانی صدر درخواست کریں تو وہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
