بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے، تاہم اس بار وجہ ان کی بیٹنگ سے زیادہ ایک متنازع بیان ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک مذہبی اسکالر نے دعویٰ کیا کہ جاری ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ان کی خراب فارم کی وجہ “کالا جادو” ہے، جس کے بعد آن لائن نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
سری لنکا اور بھارت میں کھیلے جا رہے ایونٹ کے دوران بابر اعظم اپنی روایتی فارم میں دکھائی نہیں دیے۔ پانچ اننگز میں وہ مجموعی طور پر 91 رنز بنا سکے اور ان کی اوسط 22.75 رہی۔ سپر 8 مرحلے میں انگلینڈ کے خلاف 24 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں ان کا اسٹرائیک ریٹ 104.17 رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سست رفتار بیٹنگ کے باعث ٹیم بڑا اسکور ترتیب دینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بھی انہیں چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا اور واضح کیا کہ پاور پلے میں کم اسٹرائیک ریٹ ٹیم کی حکمت عملی سے ہم آہنگ نہیں۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں پاور پلے کے دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ 90 سے کم رہا ہے، جو جدید ٹی 20 تقاضوں کے مطابق تسلی بخش نہیں سمجھا جا رہا۔
بابر اعظم کی بگ بیش لیگ میں Sydney Sixers کے ساتھ پہلی مہم بھی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔ 11 میچز میں انہوں نے 202 رنز 22.44 کی اوسط سے بنائے جبکہ 103.06 کا اسٹرائیک ریٹ اس سیزن میں 200 سے زائد رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں کم ترین رہا۔ آٹھ اننگز میں وہ 15 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بھی وہ 2022 کے بعد سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ 2024 میں ان کی اوسط 18.5 ریکارڈ کی گئی۔ کبھی ٹی 20 انٹرنیشنل میں عالمی نمبر ایک بیٹر رہنے والے بابر اب آئی سی سی رینکنگ میں 31ویں نمبر پر آ چکے ہیں۔
اگرچہ کچھ حلقے ان کی واپسی کے لیے پرامید ہیں، تاہم سابق کپتان راشد لطیف نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بابر اعظم اس فارمیٹ کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر رہے۔ دوسری جانب مداحوں کی بڑی تعداد اب بھی ان کی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہے اور ایک مضبوط کم بیک کی منتظر ہے۔
