ایران کو روس سے ایس 400 ملنے کا امکان،معاہدہ تقریباً طے پاگیا-تہران نے ماسکو سے اس جدید دفاعی نظام کے حصول کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
ایران اور روس کے درمیان جدید فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی فراہمی کے حوالے سے معاہدہ تقریباً طے پانے کا امکان ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق تہران نے ماسکو سے اس جدید دفاعی نظام کے حصول کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور محسن رضائی کے حالیہ دوروں کے دوران روس اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون سمیت مختلف اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان گیس کی نئی پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بھی زیرِ غور آیا۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو گزشتہ جمعرات ایک خصوصی خط دے کر ماسکو روانہ کیا تھا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ اس خط میں روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے بعد محسن رضائی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم علاقائی معاملات، جنگ کے بعد کی صورت حال اور مستقبل کے سکیورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس دوران نئی گیس پائپ لائن کی تعمیر کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ روس ایران کے لیے ایسے میزائل تیار کرنے کے معاملے پر کام کر رہا ہے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فائر کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران حالیہ عرصے میں روس کے ساتھ اسلحے کی فراہمی کے متعدد معاہدے بھی کر چکا ہے۔
اخبار نے ان معاہدوں کو امریکا کے ساتھ ممکنہ طویل جنگ کی صورت میں اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے اور ریاستی تحفظ یقینی بنانے کے لیے ایران کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی ایک خفیہ کمیٹی نے جنگ کی صورت میں ملک کے دفاع اور سلامتی سے متعلق سفارشات تیار کی تھیں۔ ان میں روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں کے ساتھ فوجی اور اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں فضائی دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیت میں اضافے کو بھی اہم قرار دیا گیا تھا۔
ایران کے لیے ایس 400 نظام کا حصول اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔ ان حملوں کے بعد ایرانی فضائی حدود، جوہری تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کے تحفظ سے متعلق دفاعی صلاحیت پر سوالات اٹھے۔
دی ٹیلیگراف کے مطابق روس ماضی میں بھی ایران کو ایس 400 فراہم کرنے کے امکانات ظاہر کرتا رہا ہے، تاہم اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کے خدشات کے باعث ماسکو نے اس معاملے پر پیش رفت نہیں کی۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے لیے بھی ایس 400 نظام ایران کو فراہم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں، فضائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور میزائل حملوں کے باعث روس کو خود بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔
ایسے میں ایران اور روس کے درمیان ایس 400 کی ممکنہ ڈیل خطے کی بدلتی ہوئی دفاعی صورت حال میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم معاہدے اور نظام کی فراہمی سے متعلق حتمی سرکاری تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔





