ٹرمپ کی ڈیزل برآمدات روکنے کی دھمکی
ٹرمپ کی ڈیزل برآمدات روکنے کی دھمکی
ٹرمپ کی ڈیزل برآمدات روکنے کی دھمکی-امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود یا بند کرنے کے عندیے نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
امریکا دنیا کا بڑا ڈیزل برآمد کنندہ ہے اور اس کی سپلائی میں کمی سے عالمی مارکیٹ میں پہلے سے موجود دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے
عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتیں پہلے ہی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث روس سمیت بڑے سپلائرز کی ترسیلات متاثر ہوئی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں ریفائننگ اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے بھی ایندھن کی عالمی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔
امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6.50 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرکے ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے
توانائی کے ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات روکنے سے امریکی مارکیٹ میں مختصر مدت کے لیے سپلائی بڑھ سکتی ہے، تاہم عالمی منڈی میں دستیابی کم ہونے سے دیگر ممالک میں قیمتوں اور مہنگائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ برآمدات میں بڑی کمی امریکی ریفائنریوں کی پیداوار کو متاثر کرکے بعد میں امریکی مارکیٹ پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے
رپورٹس کے مطابق یورپ پہلے ہی روسی سپلائی میں کمی کے بعد امریکی ڈیزل پر زیادہ انحصار کر رہا ہے، جبکہ لاطینی امریکا کے کئی ممالک بھی امریکی ڈیزل درآمدات پر نمایاں حد تک انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے فرانس اور جرمنی سے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے پر بھی زور دیا ہے تاکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کو محدود کیا جا سکے
