نیتن یاہو نے امریکا کو ایران جنگ میں دھکیلا، عباس عراقچی
نیتن یاہو سانپ ہے جس نے امریکا کو جنگ میں دھکیل دیا: عباس عراقچی
نیتن یاہو نے امریکا کو ایران جنگ میں دھکیلا، عباس عراقچی تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مفادات کے لیے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے نیتن یاہو کو ’’سانپ‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم مختلف زبانوں میں مختلف انداز اختیار کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی عوام سے عبرانی زبان میں گفتگو کے دوران امریکا کو اسرائیل کے مؤقف کے قریب لانے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ انگریزی میں امریکی قیادت کی کھلے عام تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کو اپنے مؤقف کے حق میں قائل کیا اور اسے ایران کے خلاف جنگ میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست فوجی کشیدگی 28 فروری کو شدت اختیار کر گئی تھی۔ اس دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کیے گئے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ فوجی حکام کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران نے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی اور تنازع خطے کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔
