مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے،حوثی رہنما

مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے،حوثی رہنما-خطے میں کشیدگی اور باہمی حملوں سے متعلق واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔

مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے،حوثی رہنما-یمن کے حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کے سعودی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے اہداف سعودی عرب کی فوجی تنصیبات، تیل کے مراکز اور یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے مقامات تک محدود ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب پر یمن کے خلاف کارروائیوں اور محاصرے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حوثی قیادت ظلم اور دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی سعودی عرب کی ان تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو فوجی سرگرمیوں یا یمن کے خلاف کارروائیوں سے منسلک ہیں، جن میں تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈے شامل ہیں۔

حوثی رہنما نے سعودی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ یمن میں اپنی کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے حوثیوں کے خلاف مختلف دعوے اور بیانات سامنے لا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی حکام عالمی اور علاقائی حمایت حاصل کرنے کے لیے حوثیوں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی پروپیگنڈا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

حوثی رہنما کے مطابق سعودی عرب کے خلاف موجودہ لڑائی کا آغاز حوثیوں نے نہیں کیا بلکہ ان کی کارروائیاں سعودی حملوں کے جواب میں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی میں اضافہ صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی حملوں کے بعد ہوا، جس کے بعد حوثی علاقوں کے خلاف دباؤ اور محاصرے کا سلسلہ جاری رہا۔

دوسری جانب حالیہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی یومیہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل بتائی جاتی ہے اور یہ سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل اور برآمد کا اہم متبادل راستہ ہے۔ پائپ لائن کی سرگرمی متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے متبادل ذرائع استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں حوثیوں اور سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے درمیان طویل عرصے تک لڑائی جاری رہی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے فریقین کے درمیان جنگ بندی ہوئی، تاہم خطے میں کشیدگی اور باہمی حملوں سے متعلق واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔