فیصل مسجد سے متعلق اے آئی ویڈیو پر علماء و مشائخ کا ردعمل
فیصل مسجد سے متعلق اے آئی ویڈیو پر علماء و مشائخ کا ردعمل
فیصل مسجد سے متعلق اے آئی ویڈیو پر علماء و مشائخ کا ردعمل-مساجد، عبادت گاہوں، نمازیوں اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے
اسلام آباد کی فیصل مسجد کو ڈرون حملے کا ہدف بناتے ہوئے تیار کی گئی مبینہ اے آئی ویڈیو پر مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے پاکستان، اسلام اور قومی مقدسات کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
علماء و مشائخ، جن میں پیر نقیب الرحمن، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی عبدالرحیم، مفتی کریم خان، مفتی رمضان سیالوی، مولانا زاہد منصور، مولانا محمد حسین اکبر اور دیگر شخصیات شامل ہیں، نے کہا کہ کسی مسجد کو نشانہ بنانے کی منظرکشی قابل مذمت عمل ہے اور اس سے شدت پسند سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مساجد، عبادت گاہوں، نمازیوں اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور ایسی کارروائیاں معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش سمجھی جاتی ہیں۔ علماء نے کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد، خودکش حملوں اور دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فیصل مسجد پاکستان کی ایک اہم مذہبی اور قومی علامت ہے، اس لیے اس سے متعلق خوف پھیلانے یا اشتعال انگیز مواد تیار کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ علماء و مشائخ نے عوام پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے غیر مصدقہ یا اشتعال انگیز مواد کو آگے بڑھانے سے گریز کریں اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی حمایت ضروری ہے تاکہ عوام، عبادت گاہوں اور قومی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
