فوری مقدمہ درج: سپریم کورٹ کا اہم حکم
سپریم کورٹ نے فوری مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے، جس کے مطابق قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی بغیر کسی تاخیر کے ایف آئی آر درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ پولیس کسی بھی سنگین جرم کی اطلاع ملنے پر ٹال مٹول سے کام نہیں لے سکتی اور فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کرنی ہوگی۔
اس تاریخی حکم نامے میں سپریم کورٹ نے جنوری 2025 سے لے کر آج تک مقدمات کے اندراج کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کتنے مقدمات میں تاخیر کی گئی اور پولیس نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں۔ عدالت نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ اگر مقدمہ اندراج میں غیر ضروری تاخیر ثابت ہوئی تو انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سمیت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ماہرینِ قانون کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان کے نظامِ انصاف میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کے حقوق کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا بلکہ پولیس کے کام کرنے کے روایتی طریقہ کار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ اس حکم کے بعد اب پولیس افسران کو ہر شکایت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور مجرمانہ سرگرمیوں کی بروقت روک تھام یقینی بنانی ہوگی۔
