سینئر صحافی شوکت ڈار دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

سینئر صحافی شوکت ڈار دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے-برطانیہ اور پاکستان کی صحافتی و سماجی برادری میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی شوکت ڈار دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے-برطانیہ میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی شوکت ڈار دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے برطانیہ اور پاکستان کی صحافتی و سماجی برادری میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

شوکت ڈار پاکستان پریس کلب یو کے انٹرنیشنل کے صدر تھے اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے۔ انہیں منگل کی شام دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات آئندہ ایک سے دو روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

شوکت ڈار تقریباً 35 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے اور برطانیہ میں ڈیجیٹل میڈیا کے ابتدائی دور کے صحافیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کے انتقال پر لندن سمیت برطانیہ بھر کی صحافتی برادری نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ساتھی صحافیوں اور سماجی شخصیات کے مطابق شوکت ڈار خوش اخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صحافیوں کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے سرگرم رہتے تھے، جبکہ کسی صحافی کے ساتھ ناانصافی کی صورت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔

پاکستانی میڈیا سے متعلق معاملات میں بھی وہ برطانیہ میں مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور مختلف سماجی پروگراموں کے انعقاد میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔

صحافتی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ شوکت ڈار کی شخصیت نے انہیں مختلف حلقوں میں مقبول بنایا۔ ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ محفلوں میں خوشگوار ماحول پیدا کرنے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔

برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان اور پاکستان ہائی کمیشن لندن نے بھی شوکت ڈار کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ہائی کمیشن کے مطابق مرحوم نے صحافت کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور کمیونٹی کے مسائل کے حوالے سے ہائی کمیشن سے رابطے میں رہتے تھے۔

صحافتی و سماجی شخصیات نے شوکت ڈار کے اہل خانہ اور ان کے دستِ راست وحید احمد سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی ہے۔