ایرانی سفارتکار کو نکالنے پر ایران کا سوئیڈن سے جوابی قدم

ایران نے ایرانی سفارتکار کو ملک بدر کرنے کے جواب میں سوئیڈش سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا، جس سے سفارتی تناؤ بڑھ گیا ہے۔

ایران نے ایرانی سفارتکار کو ملک بدر کرنے کے جواب میں ایک سوئیڈش سفارتکار کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کی عکاسی کرتا ہے اور اسے سوئیڈن کے حالیہ اقدام کے خلاف ایک سخت جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، سویڈن نے حال ہی میں تہران میں قائم اپنے سفارتخانے میں تعینات ایک ایرانی اہلکار کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایرانی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوئیڈن کے ایک سینئر سفارتکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا اور اسے مقررہ مدت کے اندر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں۔ یورپی ممالک اور ایران کے درمیان پہلے ہی کئی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں، اور اب سفارتکاروں کی باہمی بے دخلی سے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

فی الحال سوئیڈن کی جانب سے ایران کے اس تازہ ترین اقدام پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر بات چیت یا مزید سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔