اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیاسی احتجاج پر اہم فیصلہ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیاسی احتجاج پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مظاہروں کی آڑ میں شہریوں کے بنیادی حقوق پامال نہیں کیے جا سکتے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیاسی احتجاج کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی مظاہروں کی آڑ میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مجوزہ مارچ سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔

عدالت عالیہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسلام آباد کا محاصرہ کرنا اور شہریوں کے حقوق معطل کرنا کسی بھی صورت میں احتجاج کا حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی جماعتیں اپنا حقِ احتجاج استعمال کر سکتی ہیں لیکن اس عمل میں عام شہریوں کی زندگی، نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور کسی بھی سیاسی سرگرمی کو عوام کی تکلیف کا سبب نہ بننے دے۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی مارچ کے دوران قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کو ہر صورت مقدم رکھا جائے تاکہ دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہ سکے۔