افغانستان سے پاکستان کی جانب مبینہ سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار ڈرونز کو مار گرایا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر متحرک ہے اور ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیان کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ایسے اقدامات کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ طرزِ عمل خطے میں کشیدگی بڑھانے اور افغان عوام کو گمراہ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کی سرپرستی ترک کرے اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے خلاف سرحد پار اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد پار کسی بھی جارحیت کا جواب "آپریشن غضبُ الحق” کے تحت فوری اور بھرپور انداز میں دیا جاتا رہے گا۔