اسرائیل کا امریکا سے معاوضے کا مطالبہ

اسرائیل کا امریکا سے معاوضے کا مطالبہ سامنے آگیا، تل ابیب سعودی ایف-35 ڈیل کے بعد وہ ہتھیار خریدنا چاہتا ہے جن کی منظوری پہلے نہیں ملی تھی۔

اسرائیل کا امریکا سے معاوضے کا مطالبہ سامنے آیا ہے جس کے تحت تل ابیب واشنگٹن سے ایسے ہتھیار خریدنے کی درخواست کرے گا جن کی منظوری پہلے نہیں دی گئی تھی۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے بعد اسرائیل نے امریکا سے فوجی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاوضے کے تحت اسرائیل ان جدید ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کی اجازت چاہتا ہے جن کی فروخت کی منظوری واشنگٹن نے ماضی میں دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے درمیان اس طرح کے فوجی سودے خطے کی سلامتی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسرائیل ہمیشہ سے خطے میں اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنے پر زور دیتا رہا ہے، اور سعودی عرب کو جدید ترین طیاروں کی فراہمی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ دونوں ممالک کے سفارتی اور دفاعی تعلقات میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔